Header Ads

Depression and Our Society


 وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو تے ہیں۔ عمو ماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے  شروع ہوتی ہے اور کبھی بغیر کسی وجہ کے ہی شروع ہو جاتی ہے۔  عام طور سے ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔بعض دفعہ دوستوں سے بات کرنے سے ہی یہ اداسی ٹھیک ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی

‏ڈپریشن (Depression) کی بیماری کی شدت عام اداسی کے مقابلے میں،جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں،کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔  اس کا دورانیہ بھی عام اداسی سے کافی زیادہ ہوتا ہیاور مہینوں تک چلتا ہے۔

‏’یہ سب تمہارا وہم ہے‘،  ’پریشانی کی کوئی بات نہیں‘  یا  ’خوش رہا کرو، تم بہتر محسوس کرو گے۔‘

‏ جب بھی ذہنی امراض کی بات ہوتی ہے تو ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ایسے ہی عجیب و غریب مشورے دیتے ہیں۔

‏  اگرچہ کئی لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے لیکن ڈپریشن با قائدہ  ایک بیماری ہے۔جس کی علامات میں روزمرہ کاموں میں دل نہ لگنا،بے بسی،مایوسی اور گھبراہٹ کا شکار رہنا ،فیصلہ کر نے کی صلاحیت،توجہ و یادداشت کی کمی وغیرہ شامل ہے یہاں تک کہ اس بیماری کا شکار افراد اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے لگتے ہیں۔

‏ویسے تو ڈپریشن ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کا علاج ماہر نفسیات ادویات اور کونسلنگ کے ذریعے کرتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ عمل اس کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔کچھ نہ کچھ ورزش کرتے رہیں، چاہے یہ صرف آدھہ گھنٹہ روزانہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔ متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ڈائری لکھئے۔ اپنے تاثرات اور احساسات کو اظہار کا راستہ دیجئے۔ مسکراہٹ کی وجہ ڈھونڈئیے اور وہ وجہ ضروری نہیں کہ آپ کو کسی بہت بڑی خوشخبری سے ملے۔ وہ وجہ کسی بچے کی معصوم ہنسی،  کسی پھول کے کھلنے،  کسی پرندے کے چہچہانے،  من پسند کھانے کے ذائقے،  من پسند موسیقی کی دھن یا اس طرح کی بظاہر بے ضرر چیزوں سے کشید کی جاسکتی ہے۔

آئیے! مل کر خوش رہنا سیکھتے ہیں۔ روپیہ پیسہ اور مادی اشیاء  بھلے وقت کی ضرورت ہیں لیکن  ان ضرورتوں میں سب سے بڑی ضرورت آپ خود ہیں۔ خود پر توجہ دیجئے۔

Article by : Kiran Malik 

 @itx_kiranmalik

Post a Comment

0 Comments