سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دوشنبہ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے طویل بات چیت کے بعد میں نے ایک شمولیتی حکومت کی خاطر تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کیلئے طالبان سے مذاکرات کی ابتداء کر دی ہے۔
ایک اور ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 40 برس کی لڑائی کے بعد (ان دھڑوں کی اقتدار میں) یہ شمولیت ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی ضامن ہو گی جو محض افغانستان ہی نہیں بلکہ خطے کے بھی مفاد میں ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تاجک صدر سے ملاقات کی طالبان سے مذاکرات کااعلان بہت تاریخی ہے افغانستان میں روس کے انخلا کے بعد اختلافات اورلڑائیاں ہوئیں پوری دنیا اس وقت افغانستان کی طرف دیکھ رہی ہے،تاجک صدر کا پوری دنیا کے تاجک بہت احترام کرتے ہیں کوشش کیجائے گی کہ تاجک کومخلوط حکومت میں شامل کیاجائے وسطی ایشیا سےٹرین سروس شروع کرسکیں تو اقدام گیم چینجر ہوگا
قبل ازیں چینی صدرشی جن پنگ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کو مزید کھلے پن اور جامع حکومت کے قیام کی طرف بڑھنے دیا جائے اور اعتدال پسندانہ داخلہ اور خارجہ پالیسیاں اپنائی جائیں افغانستان میں متعلقہ فریقوں کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ بیجنگ کابل کو اپنی استطاعت کے مطابق مزید مدد فراہم کرے گا کچھ ممالک کو افغانستان کے مستقبل کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں کیونکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان ایسے حالات میں چھوڑا کہ طالبان کے لیے کابل کے اقتدار پرقبضے کے دروازے کھل گئے۔

0 Comments