جناح آف پاکستان کے مصنف پروفیسر اسٹینلے لکھتے ہیں، "بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے سر انجام دیئے"۔
بانی پاکستان ، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ہمہ جہت خوبیوں کی مالک ایک ایسی سحر انگیز شخصیت ہیں کہ جن کی بے پناہ جادوئی خوبیوں ، قائدانہ صلاحتوں اور راہنمائی سے پاکستان معرض وجود میں آیا۔انہوں نے اپنی ساری زندگی ان اصولوں کے تحت بسر کی جنہیں اسلام کے سنہری اصول کہا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی اپنی بلند کرداری،دیانت،جہدِ مسلسل ،شرافت ،سچائی اور اعلی نصب العین کے حصول کو ہر چیز سے مقدم رکھا ۔ان کی زندگی کے چند واقعات قارئین کے پیش خدمت ہیں
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ قیام پاکستان کے بعدگورنر جنرل کی حیثیت سے ملک چلا رہے تھے ،ایک دن برطانیہ کے سفیر نے کہا کہ برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی آج پاکستان کے ائیرپورٹ پہنچ رہا ہے آپ انہیں لینے ائیرپورٹ جائیے گا ،قائداعظم نے انتہائی دبدبے سے فرمایا آپکے بادشاہ کے بھائی کو ائیرپورٹ لینے چلا جاؤں گا لیکن ایک شرط پر کے کل جب میرا بھائی برطانیہ جائےگا تو آپ کا بادشاہ جارج اسکو لینے ائیرپورٹ جائے گا ، یہ سن کر سفیر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ۔
ابوالحسن اصفہانی اپنے ایک مضمون "بے مثال لیڈر" میں لکھتے ہیں کہ قائد کی یہ عادت تھی کہ جب کمرے سے باہر نکلتے تو تمام لائٹ بند کر دیا کرتے تھے،میں آخری بار ان سے 31اگست 1947 کو گورنر ہاؤس میں ملا تھا۔ہم کمرے سے نکلے تو مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت حسب عادت تمام لائٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے آ رہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ سر آپ گورنر ہیں اور یہ سرکاری رہائش گاہ ہے اس میں لائٹ جلتی رہنا چاہیے، تو قائداعظم نے جواب دیا کہ سرکاری رہائش گاہ ہے اسی لئے تو میں ایسا کر رہا ہوں یہ نہ تو تمہارا پیسہ ہے اور نہ میرا یہ سرکاری خزانہ کا پیسہ ہے اور میں اس پیسہ کا امین ہوں۔"
فاطمہ جناح اپنی کتاب ’’میرا بھائی‘‘ میں ایک واقعہ تحریر فرماتی ہیں کہ زندگی کے آخری ایام میں جب ان کی حالت بہت خراب تھی تو میں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا جس پر انہوں نے کہا کہ ’’فاطمہ کیا تم نے کسی جرنیل کو اس وقت رخصت پر جاتے ہوئے دیکھا ہے جب اس کی فوج میدان جنگ میں اپنی بقا کے لئے برسرپیکار ہو‘‘ اس پر میں یہ کہتی کہ آپ کی زندگی بہت عزیز اور اہم ہے تو وہ جواب دیتے کہ ’’مجھے تو ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی زندگی کی فکر ہے۔‘‘
قائداعظم کے دفتر کا فرنیچر آرڈر کیا گیا جو کے سینتیس(37) روپے تھا ، آپ کو خزانے سے ادائیگی کے لیے دستخط کرنے کے لیے پیش کیا گیا آپ نے بل دیکھا تو پوچھا اس میں یہ سات روپے کی فالتو کرسی کیوں آرڈر کی ہے سیکریٹری نے کہا سر یہ فاطمہ جناح صاحبہ کے لیے ہے جب وہ دفتر آتی ہیں تو انکے بیٹھنے کے لیے منگوائی ہے ، قائداعظم نے سات روپے کاٹ کر تیس روپے کا بل منظور کرتے ہوئے فرمایا:"اگر فاطمہ کو کرسی کی ضرورت ہے تو کرسی کے سات روپے فاطمہ سے جا کر وصول کرو ، قومی خزانہ نہیں دے گا ۔"
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے محمد علی جناح کے بارے میں فرمایا: "محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے‘‘۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ بابائےقوم قائداعظم محمد علی جناح کی مرقد پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔۔۔ آمین
Written by : Kiran Malik
0 Comments